Book Review Khayal e Yaar
خیالِ یار
سُمیرا حمید سے اقتباس
میں نے کتاب کا چُناوࣿ اس کے خوبصورت نام کی وجہ سے کیا لیکن یہ کتاب ایک کہانی نہیں بالکہ ۶ کہانیوں کا مجموئہ ہے۔
اگر میں اپنے قارئین سے آزادئ رائے کی بنا پہ بات کروں تو میں نااُمید بھی تھی اور مجھے کہانیوں میں اتنا مزا نہیں آرہا تھا۔
سمیرا حمید کے کُچھ ناولز ایسے ہیں کہ انسان اس میں کھو جاتا ہے۔ وہ ہماری زات کا حصہ ہو جاتی ہیں لیکن بہر حال خیالِ یار میں موجودکہانیاں میں نے زیارہ انجوائے نہیں کی۔
کہانیاں ہمیں اچھی لگیں یا بُری وہ سبق آمیز ہوتی ہیں۔ اور ایسے ہی کُچھ خوبصورت سبق میں نے ہر کہانی سے سیکھے میں آپ سے شئیرکروں گی۔
پہلی کہانی ہے "خیالِ یار"
یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس نے اپنی پہچان کی جنگ لڑی اور پھر اپنے عشق کی جنگ لڑنی چاہی، لیکن عشق مجازی نے عشقِحقیقی کے در پہ دستک دی۔ اور خالقِ حقیقی نے اُسے چُن لیا اپنی محبت کے لیے۔
یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا جتنی آسانی سےمیں نے بیان کر دیا۔ یہ وہی جانتے ہیں جو عشق کی کوئی نہ کوئی کڑی دل پہ گزارتے ہیں۔ یہکہانی ہے اپنا دل مار دینے کی کہانی تاکہ اس دل میں نور بس سکے۔
دوسری کہانی ہے " ایک تھی محبت "
یہ کہانی ہے ایسی لڑکی کی جو معاشرے کی قید سے نکل کے عیسیٰ سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اور عیسیٰ اپنی زات کا محور ہیصوفی کو بنا لیتا ہے۔
کہانی کی ہیپی اینڈنگ نہیں تھی۔ اور کہانی کا انجام جس طریقے سے کیا گیا ہے یقین مانیں میں نے اہک ہفتہ کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا اگلیکہانی پڑھنے کے لیے۔
لیکن کہانی اور کہانی کے کردار ہماری سامنے ہمارے آس پاس موجود ہیں اس لیے ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے کہ اس طرح کے قصوںکا وجود نہیں ہے۔ میرے جیسی لڑکیاں رو کے بھی ایکسیپٹ کریں اُنکو کرنا ہی پڑتا ہے۔
تیسری کہانی ہے "میں بنت جمیلہ"
اچھا میں بہت اپ سیٹ ہوئی اس کہانی سے ، مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔ لیکن پھر میں نے ایک بات سوچی کے مجھے نا پسند آنے سے کیاحقیقت بدل جائے گی؟ کیا میں کہہ سکتی ہوں یہ بے بُنیاد کہانی تھی؟
نہیں میں ایسا نہیں کہہ سکتی کیونکہ یہ کہانی ہے domestic violence کی۔ ایک لڑکی جس نے اپنی ماں کی تزلیل دیکھی اپنے باپ کےہاتھوں اور اپنی ماں کو مر جانے کی بددعایئں دینے لگی تاکہ اسکی ماں کہیں تو سکون لے سکے۔ پھر شادی سے پہلے اور شادی کے بعدمردوں کے روپ انکی حقیقتوں سے آشکار ہوئی اور کیسے اس نے مقابلے کی ٹھانی۔
میں کمزور ہوں شاید مجھسے اتنا مظبوط کردار برداشت نہیں ہوا اور میں مسلسل اُلجھن کا شکار رہی۔ لیکن حقیقت سے آنکھیں نہیں چُرائیجا سکتیں۔
چوتھی کہانی ہے "ہماری کہانی"
یہ میری پسندیدہ کہانی ہر اس کتاب کی۔ کیونکہ میرا موڈ بھی لائٹ رہا اور میں انجوائے کر کے پڑھتی رہی۔
یہ کہانی ہے دو کزنز کی جن کی بچپن میں منگنی ہوئی اور کیسے بچپن سی جوانی تک نفرت کے اس رشتے نے این موقع پہ محبت کا رنگڈھال لیا۔ یہ کہانی واقعی بہت پیاری ہے۔
ایک بات جو مجھے اس کہانی کی سب سے پیاری لگی وہ یہ کہ ہمیں ہر رشتے کو وقت دینا چاہیے ہر رشتہ وقت اور توجہ مانگتا ہے۔ اور پھرسب اچھا ہو جاتا ہے۔ بالکل ڈیزنی موویز کی طرح !
پانچویں کہانی ہے " تو حرفِ بیاں"
کہانی کی شروعات میں مجھے کرداروں پے بھی غصہ آیا اور اس بات سے اتفاق بھی نہیں کر پا رہی تھی کے محبت کے حصول کے لیے اسقدر جدوجہد دُنیا میں کوئی کر سکتا ہے۔ کوئی کسی کے لیے خود کو ۳۶۰ کے درجے پہ بدل سکتا ہے۔ لیکن کہانی جیسے جیسے آگے بڑھنےلگی مجھے کردار سمجھ آنے لگے اور ان کے ردعمل بھی۔ اس لیے یہ کہانی بھی مجھے اس کتاب میں دوسرے نمبر پہ پسند آئی۔
یه کہانی ہے ایک پینڈو کی جو اوور سیز پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہوتا ہے۔ قسمت مہربان ہوتی ہے شادی بھی ہو جاتی ہے لیکناصل کھیل شادی کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ یہ آپ خود پڑہیں گے میں کوئی hint نہیں دونگی۔
چھٹی کہانی ہے " ش- شرر"
اس کہانی سے مجھے اختلاف رہا شروع سی اختمام تک۔ کیوکہ میرے اندر بہت سے سوال تھے کرداروں کے لیے اور ان کے فیصلوں کے لیے۔لیکن میری خاموشی کے لیے یہ بات کافی ہے کے ایسی کہانییاں میں آئے روز ٹی وی پہ بھی دیکھتی ہوں اور اپنے آس پاس لوگوں میں بھی۔ اس لیے اس حقیقت کو جھٹلانے کا میرے پاس جواز ہی نہیں تھا۔ مجھے پسند آئے یا نا آئے حقیقت انہی کہانیوں میں پنہاں تھی۔
ہر کہانی اور اسکے کردار ہمیں بہت کُچھ سکھاتے ہیں۔ آپکو ان کرداروں کو ضرور experience کرنا چاہیے۔
مجھے ضرور بتائیں میرے Book Review آپکو کیسے لگتے ہیں؟


Comments
Post a Comment