Book review Muhabbat Man Mehram ( By Sumaira Hameed)



عورت کو کچھ نہ کچھ اپنے لیے بھی بچا لینا چاہیے، لیکن ہم محبت کے نام پہ سارے پر ہی جلا دیتے ہیں۔" 


مُجھے یہ لائن اس کتاب میں سب سے اچھی لگی کیونکہ واقعی ایسا ہی ہے ہم عورتوں میں اللہ نے اتنی بے-لوث محبت ڈال دی ہے کہ ہم اپنے سے جُڑے ہر رشتے پہ قُربان ہو جانا چاہتے ہیں۔


مسز گوہر ہوں، اُفق یا افق کی امی آپکو ہر کردار محبت بانٹتا نظر آئیگا۔ 


محبت من محرم کہانی ہے اُفق کی، ہی کہانی ہے سیپ میں چُھپے ہوئے ایک موتی کی جو وقت کے ساتھ ساتھ مظبوط ہونا سیکھ گئی اور پھر تبدیل ہو گئی ایسے انسان میں جو  کچھ سال پہلے والی افق سے زیادہ بہتر اور زیادہ سمجھدار ہے۔ 


یہ کہانی ہے عدن کی جو دولت اور شہرت کے لیے ایک کنٹریکٹ میرج کر لیتا ہے لیکن اس رشتے میں عزت، احساس اور محبت  نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ 


یہ کہانی ہے فرزام کی جو زندگی کی کڑی دھوپ سہتا ہوا انگلینڈ سے واپس آ کر لاہور کے ایک محلے میں گھر لیتا ہے اور صفر سے کامیابی کا سفر شروع کرتا ہے۔ آپنی ماں کو بزنس شروع کرنے، انکو اپنے ہنر کو استعمال کرنے میں انکی مدد کرتا ہے اور انتھک محنت سے کامیاب ہوتا ہے۔ 


یہ کہانی ہے مسلسل جدوجہد کی، کہانی کے سب کردار ہمیں اپنی پہچان کے لیے، سوسائٹی میں مقام کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ 


ویسے تو ہر انسان اپنی کہانی کا خود ہیرو ہوتا ہے مگر سمیرا حمید کی اس کہانی میں ہمیں ہر کردار سے  کوئی نہ کوئی بات سیکھنے کو ملتی ہے۔ 

بہت بہترین انداز میں انہوں نے قاری کے دل میں ایک کردار کے لیے نفرت اور غصہ ڈالا اور پھر ہم اُسی کردار کے لیے رحم بھی محسوس کرتے ہیں۔ 


اس کہانی کے کردار ہمیں اپنے آس پاس موجود نظر آتے ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کتنے احسن طریقے سے انہوں نے ہماری زندگی سی کردار چن کے اسے کہانی کا روپ دیا جس سے میں اور آپ ریلیٹ کر سکتے ہیں۔ 


ایک اور بات مجھے سمیرا حمید کی بے حد پسند آئی اور اسکو آپ سب کے سات شئیر نہ کرنا زیادتی ہوگا، 

" جب انسان پہ بُرا وقت آتا ہے تو دراصل اُسکی بھلائی کے لئے آتا ہے، وقت، حالات، لوگوں کی حقیقتیں واضح کرنے کے لیے ، ہماری تربیت کے لیے آتا ہے۔ " 


قران میں رب کی پاک ذات فرما رہی ہے " ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے"  

یہی وہ آسانی ہے کے آپکا رب آپکو کندن بنا رہا ہے، آپکو سنوار رہا ہے، آپکی تربیت کر رہا ہے۔ 


حس و مزاح کا کا بہت پیارا امتزاج پڑھنے کو ملتا ہے ہمیں، فرزام جیسا کردار جو خود مشکل کا شکار ہے، اپنی حسِ مزاح سے ہمیں بھی ہلکا پُھلکا محسوس کرواتا ہے اور مسز گوہر ک بھی۔ 


میں سب سے زیادہ اپ سیٹ عدن والا حصہ پڑھتے ہوئے ہوتی تھی، میں چاہتی تھی کہ میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لوں اور سب ٹھیک ہو جائے لیکن مجھے اس پرشر سے گُزرنا ہی پڑا اسی پوائنٹ پہ میرے پڑھنے کی رفتار بھی سلو ہو گئی اور میں مزید مایوس نہیں ہونا چاہتی تھی عدن سے لیکن عدن جیسے کردار ہمیں مایوس کرنے میں کوئے کمی نہیں چھوڑتے ہمیں ہی انکا سامنا دلیری سے کرنا پڑتا ہے۔ 

ہم ہمیشہ کبوتر بن کے نہیں رہ سکتے۔ اصل زندگی میں تو بالکل بھی نہیں۔ 


ہمیں ہر کردار سے سیکھنے کے لیے بہت سے سبق ملتی ہیں۔ 


فرزام سے ہمیں سیکھنے کو ملا کے سونے کا نوالا لے کے پیدا ہونے کے باوجود انسان میں مشکل وقت سے مقابلے کی ہمت اور حوصلہ ہونا چاہیے۔ انسان کے اندر ماحول کے مطابق ڈھلنے کا ہُنر ہونا چاہیے۔ وہ کبھی نقصان نہیں اُٹھائے گا۔ 


عدن سے سیکھا، کھرے اور کھوٹے کے پہچان کرنا، اس میں یہ حس تی کے وہ کھرے اور سچے کو پہچان سکتا لیکن ہمت نہیں تھی کہ اپنے لیے قدم اُٹھا سکتا۔ کمزور اعصاب کا کمزور انسان ہمیشہ دُکھ اُٹھاتا ہے۔ اور خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ 


اُفق سے میں نے سیکھا جن کے دل صاف ہوتے ہیں جو معصوم ہوتے ہیں، اللہ انکی طرف ہوتا ہے۔ اللہ ہمیشہ ایسے انسان کا پلڑا بھاری رکھتا ہے، جو صاف نیت کے ساتھ زندگی کو اپنا ۱۰۰% دیتے ہیں پھر اسے لوگوں کے لیے اللہ دل کے سکون کے ساتھ دولت اور شہرت بھی اُسی پلڑے میں ڈال دیتا ہے۔ 


دل کا محرم وہی ہوتا ہے جو دل کا حال جانتا ہو، میرے لیے رب کے علاوہ اس زُمرے میں کوئی نہیں آتا۔ کوئی آ سکتا ہی نہیں ہے۔ 


میں نے بہت سے کردار واضح نہیں کیے، حتالامکان کوشش کی کہ کہانی بھی واضح نہ کروں تا کہ آپ مکمل انجوائے کر سکیں یہ کہانی۔ 


امید ہے آپکو میرا book review پڑھ کے اچھا لگا ہوگا۔ 

میری حوصلہ افزائی کے لیے کمنٹ میں ضرور بتائیے گا۔ 


محبت من محرم بہت اچھی کہانی ہے، ضرور پڑھیے گا۔ 



از قلم:  قراۃالعین فاطم

 

Comments

Popular posts from this blog

Someone Like Her by Awais Khan